(١٩٣٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِیہِ أَوْ عَمِّہِ قَالَ : شَہِدْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَرَفَۃَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَقِیقَۃِ فَقَالَ : لاَ أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَمَنْ وُلِدَ لَہُ وَلَدٌ وَأَحَبَّ أَنْ یَنْسُکَ عَنْہُ فَلْیَنْسُکْ ۔ وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِیرَۃِ فَقَالَ : حَقٌّ ۔ وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ فَقَالَ : حَقٌّ وَلَیْسَ ہُوَ أَنْ تَذْبَحَہُ غَرَّاۃً مِنْ غَرَّاۃٍ وَلَکِنْ تُمَکِّنُہُ مِنْ مَالِکَ حَتَّی إِذَا کَانَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ زُخْزُبًّا یَعْنِی ذَبَحْتَہُ وَذَلِکَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَکْفَأَ إِنَائَکَ وَتُوَلِّہِ نَاقَتَکَ وَتَذْبَحَہُ یَخْتَلِطُ لَحْمُہُ بِشَعَرِہِ ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ عَنْ سُفْیَانَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : وَأَنْ تَتْرُکَہُ تَحْتَ أُمِّہِ حَتَّی یَکُونَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ ۔ [ضعیف ]
(١٩٣٤٢) زید بن اسلم ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنیوالد یا چچا سے روایت کرتا ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میدان عرفات میں موجود تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عقوق کو پسند نہیں کرتا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اگر وہ جانور ذبح کرنا چاہے تو کرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حق ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درست ہے، لیکن اس کو ابتدا ہی میں ذبح نہ کیا جائے بلکہ اپنے مال میں رکھ کر مکمل اونٹ بنا کر ذبح کرو، یہ بہتر ہے کہ تم اس کا گوشت برتنوں سے انڈیل دو اور اونٹنی کو ویسے چھوڑ دو اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چمٹ جائے۔
(ب) عبدالجبار بن علا سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ اس بچے کو ماں کا دودھ پینے دیں یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا ہوجائے۔