(١٩٣٤٨) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَرْمَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَوَانَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ سَمِعْتُہُ یَقُولُ : ہُوَ شَیْئٌ کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَطْلُبُونَ بِہِ الْبَرَکَۃَ فِی أَمْوَالِہِمْ فَکَانَ أَحَدُہُمْ یَذْبَحُ بِکْرَ نَاقَتِہِ أَوْ شَاتِہِ فَلاَ یَغْذُوہُ رَجَائَ الْبَرَکَۃِ فِیمَا یَأْتِی بَعْدَہُ فَسَأَلُوا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْہُ فَقَالَ : فَرِّعُوا إِنْ شِئْتُمْ ۔ أَیِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَکَانُوا یَسْأَلُونَہُ عَمَّا کَانُوا یَصْنَعُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خَوْفًا أَنْ یُکْرَہَ فِی الإِسْلاَمِ فَأَعْلَمَہُمْ أَنَّہُ لاَ مَکْرُوہَ عَلَیْہِمْ فِیہِ وَأَمَرَہُمُ اخْتِیَارًا أَنْ یَغْذُوہُ ثُمَّ یَحْمِلُوا عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ أَسْلَمَ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی ضَمْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَۃِ فَقَالَ : الْفَرَعَۃُ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَہُ حَتَّی یَکُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْزُبًّا فَتُعْطِیَہُ أَرْمَلَۃً أَوْ تَحْمِلَ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَکَفَّأَ إِنَائَکَ وَتُوَلِّہِ نَاقَتَکَ وَتَأْکُلَہُ یَتَلَصَّقُ لَحْمُہُ بِوَبَرِہِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَوْلُہُ : الْفَرَعَۃُ حَقٌّ ۔ مَعْنَاہُ أَنَّہَا لَیْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَکِنَّہُ کَلاَمٌ عَرَبِیٌّ یَخْرُجُ عَلَی جَوَابِ السَّائِلِ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : لاَ فَرَعَۃَ وَلاَ عَتِیرَۃَ ۔ وَلَیْسَ ہَذَا بِاخْتِلاَفٍ مِنَ الرِّوَایَۃِ إِنَّمَا ہَذَا لاَ فَرَعَۃَ وَاجَبِۃٌ وَلاَ عَتِیرَۃَ وَاجِبَۃٌ وَالْحَدِیثُ الآخَرُ یَدُلُّ عَلَی مَعْنَی ذَا أَنَّہُ أَبَاحَ لَہُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَہُ أَنْ یُعْطِیَہُ أَرْمَلَۃً أَوْ یَحْمِلَ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ وَالْعَتِیرَۃُ : ہِیَ الرَّجَبِیَّۃُ وَہِیَ ذَبِیحَۃٌ کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَتَبَرَّرُونَ بِہَا فِی رَجَبٍ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ عَتِیرَۃَ ۔ عَلَی مَعْنَی لاَ عَتِیرَۃَ لاَزِمَۃٌ وَقَوْلُہُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَیْثُ سُئِلَ عَنِ الْعَتِیرَۃِ : اذْبَحُوا لِلَّہِ فِی أَیِّ شَہْرٍ مَا کَانَ ۔ أَیِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبْحَ لِلَّہِ لاَ لِغَیْرِہِ فِی أَیِّ شَہْرٍ مَا کَانَ لاَ أَنَّہَا فِی رَجَبٍ دُونَ مَا سِوَاہُ مِنَ الشُّہُورِ ۔ [صحیح ]
(١٩٣٤٨) مذنی فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے اپنے مالوں کو بابرکت بنانے کے لیے اپنی اونٹنی یا بکری کے بچے کو بغیر دودھ پلائے ذبح کردیتے تھے۔ جب انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ذبح کرنا چاہو تو کرلو اور انھوں نے پوچھا کہ وہ یہ کام جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔ کہیں اسلام اس کو مکروہ تو نہیں سمجھتا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ بچے کو غذا دی جائے۔ پھر اللہ کے راستہ میں اس پر سواری کی جائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرع حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : فرع حق ہے اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فرع اور عتیرہ نہیں ہے اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانا کہ عتیرہ جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کرسکتے ہو؛ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔