(١٩٤٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ أَبُو عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَلَی یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ ابْنُ الْعَاصِ وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِیہِ رَابِطٌ دَجَاجَۃً وَہُوَ یَرْمِیہَا فَمَشَی إِلَی الدَّجَاجَۃِ فَحَلَّہَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِہَا وَبِالْغُلاَمِ فَقَالَ لِیَحْیَی : ازْجُرُوا غُلاَمَکُمْ ہَذَا عَنْ أَنْ یَصْبِرَ ہَذَا الطَّیْرَ عَلَی الْقَتْلِ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی أَنْ تُصْبَرَ بَہِیمَۃٌ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَذْبَحُوہَا فَاذْبَحُوہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح ]
(١٩٤٨٣) عبداللہ بن عمر (رض) یحییٰ بن سعید کے پاس آئے تو ان کے بیٹے مرغی کو باندھ کر تیر مار رہے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے مرغی کو کھول کر بچے کو لے کر آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچوں کو ڈانٹو۔ یہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کر رہے تھے کیونکہ رسول اللہ نے جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ اگر تم ذبح کرنا چاہتے ہو تو کرلو۔