(١٩٥٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَجَمَہُ أَبُو طَیْبَۃَ فَأَمَرَ لَہُ بِصَاعَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ مَوَالِیَہِ فَخَفَّفُوا عَنْہُ مِنْ ضَرِیبَتِہِ وَقَالَ : خَیْرُ مَا تَدَاوَیْتُمْ بِہِ الْحِجَامَۃُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِیُّ وَلاَ تُعَذِّبُوا صِبْیَانَکُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعَذِرَۃِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٩٥٠٩) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سینگی لگائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو صاع کھانے کے دینے کا فرمایا ۔ اس کے مالکوں سے بات کی کہ اس کے خراج کو کم کردیں اور فرمایا : تمہاری بہترین دوائی سینگی لگانا ہے۔ قسط بحری کا استعمال اور اپنے بچوں کو گلے کی تکلیف کی وجہ سے دبا کر تکلیف نہ دو ۔