(١٩٥٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفَ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِیُّ الإِسْفَرِائِینِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ زِیَادِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ صُہَیْبٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُہَاجِرًا وَبَیْنَ یَدَیْہِ التَّمْرُ فَقَالَ : تَعْالَ کُلْ ۔ قَالَ : فَجَعَلْتُ آکُلُ التَّمْرَ فَقَالَ : تَأْکُلُ التَّمْرَ وَبِکَ رَمَدٌ ۔ قَالَ قُلْتُ : إِنِّی أَمْضَغُہُ مِنْ نَاحِیَۃٍ أُخْرَی قَالَ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
(١٩٥٦٣) عبدالحمید بن زیادہ بن صہیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کر کے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ فرمایا : آؤ کھاؤ۔ کہتے ہیں : میں نے کھجوریں کھانی شروع کردیں۔ فرمایا : کھجوریں کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھیں خراب ہیں۔ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں دوسری جانب سے کھا رہا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے۔