(١٩٥٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْمَیْمُونِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِی لَیْثٍ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَقْرَبٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : عَلَیْکَ بِالتَّلْبِینِ الْبَغِیضِ النَّافِعِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہُ یَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِکُمْ کَمَا یَغْسِلُ أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ بِالْمَائِ مِنَ الْوَسَخِ ۔ وَقَالَتْ : کَانَ إِذَا اشْتَکَی أَحَدٌ مِنْ أَہْلِہِ شَیْئًا لاَ تَزَالُ الْبُرْمَۃُ عَلَی النَّارِ حَتَّی یَأْتِیَ عَلَی أَحَدِ طَرَفَیْہِ ۔ [ضعیف ]
(١٩٥٧٤) حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم فائدہ مند تلبینہ کو لازم پکڑو کیونکہ تلبینہ پیٹ کی صفائی اس طرح کردیتا ہے جیسے تم اپنے چہرے کو میل کچیل سے صاف کرلیتے ہو۔ فرماتی ہیں : جب کوئی گھر سے بیمار ہوجاتا تو ہنڈیا کو آگ پر جوش دیا جاتا۔