(١٩٦٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ حَدَّثَنَا شُرَحْبِیلُ بْنُ یَزِیدَ الْمَعَافِرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا أُبَالِی مَا أَتَیْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْیَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِیمَۃً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِی ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ التِّرْیَاقَ لأَنَّہُ یُصْنَعُ فِیہِ الْحَیَّۃُ ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ وَلِہَذَا الْمَعْنَی کَرِہَہُ الشَّافِعِیُّ فَقَالَ : لاَ یَجُوزُ أَکْلُ التِّرْیَاقِ الْمَعْمُولِ بِلُحُومِ الْحَیَّاتِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِی حَالِ الضَّرُورَۃِ حَیْثُ تَجُوزُ الْمَیْتَۃُ ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٣٣) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے کوئی پروا نہیں، اگر میں تریاق پیوں اور تعویذ لٹکاؤں یا اپنے طرف سے اشعار کہوں۔ ابن سیرین تریاق کھانے کو ناپسند کرتے کیونکہ اس میں سانپوں کا گوشت ڈالا جاتا ہے۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : جیسے مردار بوقت ضرورت کھایا جاتا ہے اس طرح تریاق بھی ہے۔