(١٩٦٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَاتَ بَغْلٌ أَوْ قَالَ نَاقَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ فَأَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِیَسْتَفْتِیَہُ فَزَعَمَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ لِصَاحِبِہَا : أَمَا لَکَ مَا یُغْنِیکَ عَنْہَا ؟ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : اذْہَبْ کُلْہَا ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٣٤) جابر بن سمرہ فرماتے ہیں : کسی شخص کے پاس خچر یا اونٹنی مرگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھنے آیا تو جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تجھے کوئی چیز اس سے بے پروا کرنے والی ہے ؟ اس نے جواب دیا : کوئی چیز موجود نہیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ جا کر کھالو۔