(١٩٦٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً نَزَلَ الْحَرَّۃَ وَمَعَہُ أَہْلُہُ وَوَلَدُہُ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ نَاقَۃً لِی ضَلَّتْ فَإِنْ وَجَدْتَہَا فَأَمْسِکْہَا فَوَجَدَہَا فَلَمْ یَجِدْ صَاحِبَہَا فَمَرِضَتْ فَقَالَتِ امْرَأَتُہُ : انْحَرْہَا فَأَبَی فَنَفَقَتْ فَقَالَتِ : اسْلَخْہَا حَتَّی نُقَدِّدَ شَحْہَمَا وَلَحْمَہَا وَنَأْکُلَہُ فَقَالَ حَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَاہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : ہَلْ عِنْدَکَ غِنًی یُغْنِیکَ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَکُلُوہَا ۔ قَالَ فَجَائَ صَاحِبُہَا فَأَخْبَرَہُ الْخَبَرَ فَقَالَ : ہَلاَّ کُنْتَ نَحَرْتَہَا قَالَ : اسْتَحْیَیْتُ مِنْکَ ۔
تَابَعَہُمَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٣٥) جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے بیوی، بچوں سمیت باہر پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا تو کسی نے اس سے کہا : میری اونٹنی گم ہوگئی ہے۔ اگر مل جائے تو اپنے پاس رکھ لینا اونٹنی مل گئی لیکن مالک نہ آیا اونٹنی بیمار ہوگئی۔ بیوی نے ذبح کرنے کا کہا لیکن مرد نے انکار کردیا وہ مرگئی تو بیوی نے کہا : کھال اتار دو ، تاکہ اس کی چربی اور گوشت کے ٹکڑے کر کے کھائے جاسکیں۔ اس شخص نے کہا : پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز تجھے اس سے غنی کرتی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں فرمایا : کھالو۔ جب اونٹنی کا مالک آیا تو اس نے پوچھا کہ تو نے ذبح کیوں نہ کیا تھا تو کہنے لگا : میں نے تجھ سے شرم محسوس کی تھی۔