(١٩٦٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ عُتْبَۃَ وَہُوَ ابْنُ أَبِی حَکِیمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قِیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ فَقَالَ عُمَرُ : خَرَجْنَا إِلَی تَبُوکَ فِی قَیْظٍ شَدِیدٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً أَصَابَنَا فِیہِ عَطَشٌ حَتَّی ظَنَنَا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ حَتَّی إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَذْہَبُ یَلْتَمِسُ الْمَائَ فَلاَ یَرْجِعُ حَتَّی یَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَہُ سَتَنْقَطِعُ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْحَرُ بَعِیرَہُ فَیَعْصُرُ فَرْثَہُ فَیَشْرَبُہُ فَیَجْعَلُ مَا بَقِیَ عَلَی کَبِدِہِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ قَدْ عَوَّدَکَ فِی الدُّعَائِ خَیْرًا فَادْعُ لَنَا فَقَالَ : أَتُحِبُّ ذَلِکَ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَرَفَعَ یَدَیْہِ فَلَمْ یَرْجِعْہُمَا حَتَّی قَالَتِ السَّمَائُ فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَکَبَتْ فَمَلَئُوا مَا مَعَہُمْ ثُمَّ ذَہَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْہَا جَازَتِ الْعَسْکَرَ ۔ [حسن ]
(١٩٦٤١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا گیا : ہم مشکل وقت کے بارے میں بیان کریں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ہم غزوہ تبوک کے لیے سخت گرم دن میں نکلے۔ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو سخت پیاس کی وجہ سے ہماری گردنیں ٹوٹنے کے قریب تھیں۔ آدمی پانی کی تلاش میں نکلتا لیکن واپسی تک گردن ٹوٹ جانے کا خطرہ ہوتا۔ یہاں تک کہ لوگ اونٹ ذبح کر کے اوجڑی کا پانی نچوڑ کر پیتے تو ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا خیر کی درخواست کی۔ فرمایا : کیا تم پسند کرتے ہو۔ ابوبکر (رض) نے اثبات میں جواب دیا۔ تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا دیے تو بارش ہوئی لوگوں نے برتن پانی کے بھر لییلشکر میں کوئی پیاسا نہ تھا۔