(١٩٦٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَلِیٍّ الْبَارِقِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ فَقَالَ کُلْ مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَہْلُ الْکِتَابِ ۔ وَرُوِّینَا مِثْلَ ہَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ۔
وَہَذَا لأَنَّ السِّخَالُ تُذْبَحُ فَتُؤْخَذُ مِنْہَا الأَنْفَحَۃُ الَّتِی بِہَا یُصْلِحُ الْجُبْنُ فَإِذَا کَانَتْ مِنْ ذَبَائِحِ الْمَجُوسِ وَأَہْلِ الأَوْثَانِ لَمْ یَحِلَّ وَہَکَذَا إِذَا مَاتَتِ السِّخْلَۃُ فَأُخِذَتْ مِنْہَا الأَنْفَحَۃُ لَمْ تَحِلَّ ۔ [حسن ]
(١٩٦٩٣) علی بارقی فرماتے ہیں کہ اس نے پنیر کے متعلق حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مسلمان اور اہل کتاب بنائیں کھالیا کرو۔ اس طرح کی روایت ابن عباس اور انس بن مالک سے بھی منقول ہے۔
نوٹ : بکری کا چھوٹا بچہ جو ابھی دودھ پیتا ہو اس کو ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے کوئی چیز نکالنا پھر کپڑے میں لت پت کرنے کے بعد وہ پنیر کی طرح ہوجاتی ہے جس کو لوگ پنیر کی طرح کھاتے ہیں۔ اگر یہ ذبح شدہ مجوس اور بت پرستوں کا ہو تو کھانا جائز نہیں۔ اگر بکری کا بچہ مرجائے تو تب بھی اس سے پنیر کی ماند کوئی چیز بنانا جائز نہیں ہے۔