(١٩٦٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ فَقَالَ : سَمِّ وَکُلْ ۔ فَقِیلَ إِنَّ فِیہِ مَیْتَۃٌ فَقَالَ إِنْ عَلِمْتَ أَنَّ فِیہِ مَیِّتَۃً فَلاَ تَأْکُلْہُ ۔
(ق) وَقَدْ کَانَ بَعْضُ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ لاَ یَسْأَلُ عَنْہُ تَغْلِیبًا لِلطَّہَارَۃِ رُوِّینَا ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَغَیْرِہِمَا وَبَعْضُہُمْ یَسْأَلُ عَنْہُ احْتِیَاطًا وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ لأَنْ أَخِرَّ مِنْ ہَذَا الْقَصْرِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ آکُلَ جُبْنًا لاَ أَسْأَلُ عَنْہُ ۔ وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ قَالَ کَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَسْأَلُونَ عَنِ الْجُبْنِ وَلاَ یَسْأَلُونَ عَنِ السَّمْنِ ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٩٤) جبلہ بن سحیم فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے پنیر اور گھی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ کہا گیا : اگر وہ مردہ ہو تو فرمایا : اگر مردہ کا بنایا گیا ہو تب نہ کھاؤ۔ بعض صحابہ طہارت کی وجہ سے سوال نہیں فرماتے تھے اور بعض حضرات احتیاط کی وجہ سے سوال کرلیتے تھے۔ ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں پنیر کو کھالوں اور اس کے بارے میں سوال نہ کرو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ پنیر کے متعلق سوال کرلیتے تھے لیکن گھی کے متعلق سوال نہیں کرتے تھے۔