(١٩٧١١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { وَجَعَلُوا لِلَّہِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِیبًا فَقَالُوا ہَذَا لِلَّہِ بِزَعْمِہِمْ وَہَذَا لِشُرَکَائِنَا } [الأنعام ١٣٦] قَالَ { جَعَلُوا لِلَّہِ } [الأنعام ١٣٦] مِنْ ثَمَرَاتِہِمْ وَمَالِہِمْ نَصِیبًا وَلِلشَّیْطَانِ وَالأَوْثَانِ نَصِیبًا فَإِنْ سَقَطَ مِنْ ثَمَرِ مَا جَعَلُوا لِلَّہِ فِی نَصِیبِ الشَّیْطَانِ تَرَکُوہُ وَإِنْ سَقَطَ مِمَّا جَعَلُوا لِلشَّیْطَانِ فِی نَصِیبِ اللَّہِ الْتَقَطُوہُ وَحَفِظُوہُ وَرَدُّوہُ إِلَی نَصِیبِ الشَّیْطَانِ وَہَکَذَا فِی سَقْیِ الْمَائِ قَالَ وَأَمَّا مَا جَعَلُوا لِلشَّیْطَانِ مِنَ الأَنْعَامِ فَہُوَ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { مَا جَعَلَ اللَّہُ مِنْ بَحِیرَۃٍ وَلاَ سَائِبَۃٍ وَلاَ وَصِیلَۃٍ وَلاَ حَامٍ } [الأنعام ١٣٦]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیُقَالُ نَزَلَ فِیہِمْ { قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَائَ کُمُ الَّذِینَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللَّہَ حَرَّمَ ہَذَا فَإِنْ شَہِدُوا فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ } [الأنعام ١٥٠] فَرَدَّ عَلَیْہِمْ { مَا أَخْرَجُوا وَأَعْلَمَہُمْ أَنَّہُ لَمْ یُحَرِّمْ عَلَیْہِمْ } مَا حَرَّمُوا بِتَحْرِیمِہِمْ وَذَکَرَ سَائِرَ الآیَاتِ الَّتِی وَرَدَتْ فِی ذَلِکَ ۔ [ضغیف ]
(١٩٧١١) ابن عباس اللہ کے اس قول : { وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَ ھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا } [الأنعام ١٣٦] ” اور انھوں نے اپنی کھیتیوں اور چوپاؤں میں سے اللہ کے لیے حصے مقرر کردیے اور انھوں نے اپنے گمان کے مطابق کہہ دیا : یہ اللہ کے لیے اور یہ ہمارے شرکاء کے لیے۔ “
{ جَعَلُوْا لِلّٰہِ } [الرعد ١٦] اپنے مالوں اور پھلوں سے حصہ مقرر کردیا۔ اس طرح شیطانوں اور بتوں کے نام پر بھی مقرر کردیا۔ اب اگر اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ میں کمی آجاتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے مقرر کردہ حصہ میں کمی آتی تو اللہ کے حصہ سے اس کمی کو پورا کرلیتے۔ اس طرح پانی پلانے کے بارے میں کرتے اور اس طرح جو جانوروں کے حصہ میں مقرر کرتے۔ اللہ کا ارشاد ہے : { مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیْلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ } [المائدۃ ١٠٣] ” اللہ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا۔ “
امام شافعی (رح) : فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : { قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ھٰذَا فَاِنْ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ } [الانعام ١٥٠] ” کہہ دیجیے : تم گواہ لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ یہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اگر وہ گواہی دے بھی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں۔ “
یہاں اس بات کا رد ہے جو انھوں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے، اللہ نے ان پر حرام قرار نہیں دیا۔