hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19716

.

سنن البيهقي

19716
Sunan Al Bayhaqi
(١٩٧١٠) حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ الْجُشَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَآنِی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَعَلَیَّ أَطْمَارٌ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مِنْ أَیِّ الْمَالِ ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ : قَدْ آتَانِیَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشَّائِ وَالإِبِلِ ۔ قَالَ : فَلْتُرَ نِعْمَۃُ اللَّہِ وَکَرَامَتُہُ عَلَیْکَ ۔ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہَلْ تُنْتَجُ إِبِلُکَ وَافِیۃً آذَانُہَا ؟ ۔ قَالَ : وَہَلْ تُنْتَجُ إِلاَّ کَذَلِکَ وَلَمْ یَکُنْ أَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ ۔ قَالَ : فَلَعَلَّکَ تَأْخُذُ مُوسَاکَ فَتَقْطَعُ أُذُنَ بَعْضِہَا فَتَقُولُ ہَذِہِ بَحِیرٌ وَتَشُقُّ أُذُنَ أُخْرَی فَتَقُولُ ہَذِہِ صُرُمٌ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ کُلَّ مَا آتَاکَ اللَّہُ حِلٌّ وَإِنَّ مُوسَی اللَّہِ أَحَدُّ وَسَاعِدَ اللَّہِ أَشَدُّ ۔ قَالَ : یَا مُحَمَّدُ أَرَأَیْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ یَقْرِنِی وَلَمْ یُضَیِّفُنِی ثُمَّ مَرَّ بَعْدَ ذَلِکَ أَقْرِیہِ أَمْ أَجْزِیہِ ؟ قَالَ : بَلْ أَقْرِہِ ۔ [صحیح ]
(١٩٧١٠) ابواحوص جشمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر پرانے کپڑے تھے، اس حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون سا مال ہے ؟ میں نے کہا : بکریاں اور اونٹ وغیرہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کی نعمتوں اور فضل کا اثر نظر آنا چاہیے۔ پھر آپ نے فرمایا : جب اونٹنی بچے جنم دیتی ہے تو ان کے کان پورے ہوتے ہیں ؟ کہتے ہیں : ہاں اس طرح ہی ہوتا ہے۔ لیکن ابھی وہ مسلمان نہ ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ اپنا استرہ لے کر بعض کے کان کاٹ دیتے ہیں اور کہتے ہو : یہ بحیرہ ہے اور بعض کے کانوں کو پھاڑ دیتے ہو اور کہتے ہو : یہ صرام ہے۔ کہتے ہیں : جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : اس طرح نہ کرو، جو اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ حلال ہے اور اللہ کا ہتھیار زیادہ تیز ہے اور اللہ کی مدد زیادہ سخت ہے۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایک آدمی کے پاس جاؤں اور وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا لیکن بعد میں میرے پاس آتا ہے تو میں بدلہ لوں یا مہمان نوازی کروں۔ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ مہمان نوازی کرو۔