(١٩٧٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَفَعَ الْحَدِیثَ قَالَ : مَا أَحَلَّ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ فَہُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَہُو حَرَامٌ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَہُوَ عَافِیَۃٌ فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّہِ عَافِیَتَہُ فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُنْ نَسِیًّا ۔ ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ { وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا } [مریم ٦٤]
(١٩٧٢٤) ابودرداء مرفوع حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جو اپنی کتاب میں حلال یا حرام بیان کیا ہے وہی حلال یا حرام ہے اور جس پر خاموشی اختیار کی ہے، اس سے درگزر کیا ہے (یعنی رخصت ہے) تو تم اللہ کی رخصت کو قبول کرو اور وہ بھولا ہوا نہیں ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : { وَ مَاکَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا } [مریم ٦٤]” تیرا رب بھولا ہوا نہیں ہے۔ “