hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19781

.

سنن البيهقي

19781
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۷۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدٍ قَالَ : أَصْبَحْتُ فِی الْحِجْرِ بَعْدَ مَا صَلَّیْنَا الْغَدَاۃَ فَلَمَّا أَسْفَرْنَا إِذَا فِینَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَجَعَلَ یَسْتَقْرِئُنَا رَجُلاً رَجُلاً یَقُولُ أَیْنَ صَلَّیْتَ یَا فُلاَنُ قَالَ یَقُولُ ہَا ہُنَا حَتَّی أَتَی عَلَیَّ فَقَالَ أَیْنَ صَلَّیْتَ یَا ابْنَ عُبَیْدٍ فَقُلْتُ ہَا ہُنَا قَالَ بَخٍ بَخٍ مَا نَعْلَمُ صَلاَۃً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ جَمَاعَۃً یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَسَأَلُوہُ فَقَالُوا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَکُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاہَنَ عَلَی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہَا سَبْحَۃُ فَجَائَ تْ سَابِقَۃً۔ قَالَ إِسْمَاعِیلُ کَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِکَ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ وَرَوَاہُ أَسَدُ بْنُ مُوسَی عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ إِذَا سَبَقَ أَحَدُ الْفَارِسَیْنِ صَاحِبَہُ فَیَکُونُ السَّبَقُ مِنْہُ دُونَ صَاحِبِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٩٧٧٥) موسیٰ بن عبید فرماتے ہیں کہ ہم نے فجر کی نماز پڑھ کر صبح حجر میں کی۔ جب خوب روشنی ہوگئی تو دیکھا، وہاں عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے۔ وہ ایک ایک آدمی سے پوچھ رہے تھے : تم نے صبح کی نماز کہاں پڑھی ؟ وہ سب سے پوچھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ مجھ سے پوچھا : اے ابن عبید ! تم نے نماز کہاں پڑھی۔ میں نے کہا : یہاں۔ وہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے سے زیادہ کوئی فضیلت والی ہو۔ انھوں نے سوال کیا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ گھوڑ دوڑ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں شرط لگاتے تھے ؟ فرمایا : ہاں، بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے پر شرط لگائی اور آپ نے جیت لی۔
شیخ فرماتے ہیں : جب ایک گھوڑے والا شرط جیت لے تو اس کے لیے ہوگی دوسرے کے لیے نہیں۔