(۱۹۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ عِیَاضَ الأَشْعَرِیَّ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَنْ یُرَاہِنُنِی؟ قَالَ فَقَالَ شَابٌّ أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ قَالَ فَسَبَقَہُ قَالَ فَرَأَیْتُ عَقِیصَتَیْ أَبِی عُبَیْدَۃَ تَنْقُزَانِ وَہُوَ خَلْفَہُ عَلَی فَرَسٍ عَرَبِیٍّ۔ [صحیح]
(١٩٧٧٦) عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ ابوعبید کہنے لگے : کون مجھ سے شرط لگائے گا۔ ایک جوان نے کہا : میں اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں : مقابلہ بازی شروع ہوئی۔ میں نے ابوعبید کی دو مینڈھیوں کے درمیان سے جو تیز چلنے کی وجہ سے اڑ رہی تھی دیکھ رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔