(۱۹۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ الرُّکَیْنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الْخَیْلُ ثَلاَثَۃٌ فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلشَّیْطَانِ وَفَرَسٌ لِلإِنْسَانِ فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِی یُرْتَبَطُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ رَوْثُہُ وَبَوْلُہُ فِی مِیزَانِہِ وَأَمَّا فَرَسُ الشَّیْطَانِ فَالَّذِی یُرَاہَنُ عَلَیْہِ وَأَمَّا فَرَسُ الإِنْسَانِ فَالَّذِی یَرْتَبِطُہَا یَلْتَمِسُ بَطْنَہَا مَخَافَۃَ الْفَقْرِ ۔ وَہَذَا إِنْ ثَبَتَ فَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُخْرِجَا سَبَقَیْنِ مِنْ عِنْدِہِمَا وَلَمْ یُدْخِلاَ بَیْنَہُمَا مُحَلِّلاً فَیَکُونَ قِمَارًا فَلاَ یَجُوزُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٩٧٧٧) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ گھوڑے تین قسم کے ہیں : 1 رحمن کے لیے 2 شیطان کے لیے 3 انسان کے لیے۔ وہ گھوڑا جو رحمن کے لیے ہے انسان جس کو اللہ کے راستہ میں باندھتا ہے، اس کا پیشاپ اور لید میزان میں رکھا جائے گا۔ وہ گھوڑا جو شیطان کا ہے جس پر شرط لگائی جائے۔ انسان کا گھوڑا جس کے ذریعہ وہ اپنی روزی تلاش کرتا ہے فقیری کے ڈر سے۔ اگر یہ ثابت ہو تو خدا جانے اس کی مراد یہ ہے کہ اگر دو شرط لگاتے ہیں اور تیسرے کو درمیان میں شامل نہیں کرتے تو تب جائز نہیں ہے۔