hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19787

.

سنن البيهقي

19787
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۷۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صَدْرَانَ السُّلَمِیَّ یَقُولُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَیْمُونٍ الْمُرَائِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ أَوْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَکَّ ابْنُ مَیْمُونٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا عَلِیُّ قَدْ جَعَلْتُ إِلَیْکَ ہَذِہِ السَّبْقَۃَ بَیْنَ النَّاسِ ۔ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ یَا سُرَاقَۃُ إِنِّی قَدْ جَعَلْتُ إِلَیْکَ مَا جَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی عُنُقِی مِنْ ہَذِہِ السَّبْقَۃِ فِی عُنُقِکَ فَإِذَا أَتَیْتَ الْمِیطَارَ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْمِیطَارُ مَرْسَلُہَا مِنَ الْغَایَۃِ - فَصَفَّ الْخَیْلَ ثُمَّ نَادِ ہَلْ مُصْلٍ لِلِجَامِ أَوْ حَامِلٌ لِغُلاَمٍ أَوْ طَارِحٌ لَجُلٍّ فَإِذَا لَمْ یُجِبْکَ أَحَدٌ فَکَبِّرْ ثَلاَثًا ثُمَّ خَلِّہَا عِنْدَ الثَّالِثَۃِ یُسْعِدُ اللَّہُ بِسَبَقِہِ مَنْ شَائَ مِنْ خَلْقِہِ وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَہَی الْغَایَۃِ وَیَخُطُّ خَطًّا یُقِیمُ رَجُلَیْنِ مُتَقَابِلَیْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ طَرَفُہُ بَیْنَ إِبْہَامِ أَرْجُلِہِمَا وَتَمُرُّ الْخَیْلُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ وَیَقُولُ لَہُمَا إِذَا خَرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَیْنِ عَلَی صَاحِبِہِ بِطَرَفِ أُذُنَیْہِ أَوْ أُذُنٍ أَوْ عِذَارٍ فَاجْعَلُوا السَّبْقَۃَ لَہُ فَإِنْ شَکَکْتُمَا فَاجْعَلُوا سَبَقَہُمَا نِصْفَیْنِ فَإِذَا قَرَنْتُمُ الشَّیْئَیْنِ فَاجْعَلُوا الْغَایَۃَ مِنْ غَایَۃِ أَصْغَرِ الشَّیْئَیْنِ وَلاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ شِغَارَ فِی الإِسْلاَمِ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
(١٩٧٨١) حضرت حسن یا خلاس حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں۔ یہ میمون کو شک ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کراؤ۔ حضرت علی (رض) نکلے اور سراقہ کو بلایا اور فرمایا : اے سراقہ ! میں آپ (رض) کے ذمہ داری لگاتا ہوں، جو میری ذمہ داری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوڑ کے بارے میں لگائی تھی۔ جب آپ دوڑ کی اختتامی حد کو پہنچیں گھوڑوں کی صفیں بنائیں۔ پھر آواز دیں اے لگام کو کسنے والے، بچے کو اٹھانے والے یا ساز کو پھینکنے والے ! جب کوئی ایک بھی جواب نہ دے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہنا، پھر تیسری مرتبہ ان کا راستہ چھوڑ دینا۔ پھر اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کی اس دوڑ میں مدد فرمائے اور حضرت علی (رض) مسافت کی انتہا پر تشریف رکھتے اور ایک لکیر کھینچ لیتے۔ لکیر کے دونوں طرف دو آدمی کھڑے کردیتے۔ ان کی نگاہ گھوڑوں کے قدموں پر ہوتی اور گھوڑے دونوں آدمیوں کے درمیان سے گزرتے۔ دونوں اشخاص سے فرماتے کہ جب ایک گھوڑا گزرے اور اس کی لگام یا دونوں یا ایک کان اس کے برابر ہوں تو دوڑ کی جیت اس کی ہے۔ اگر تم کو شک پڑجائے تو دونوں میں برابر قرار دیں۔ جب دو اشیاء کو تم ملاؤ تو مسافت کی دو چھوڑی چیزوں میں سے ایک کو حد مقرر کرلو اور دوڑ میں جلب اور جنب نہیں ہوتا اور اسلام میں وٹہ سٹہ بھی نہیں ہوتا۔