(۱۹۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ قَالَ سُئِلَ مَالِکٌ مَا تَفْسِیرُ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَّا الْجَلَبُ فَأَنْ یَتَخَلَّفَ الْفَرَسُ فِی السِّبَاقِ فَیُحَرَّکَ وَرَائَ ہُ الشَّیْئُ یُسْتَحَثُّ بِہِ فَیَسْبِقُ فَہَذَا الْجَلَبُ وَأَمَّا الْجَنَبُ فَإِنَّہُ یُجْنَبُ مَعَ الْفَرَسِ الَّذِی یُسَابَقُ بِہِ فَرَسٌ آخَرُ حَتَّی إِذَا دَنَا تَحَوَّلَ رَاکِبُہُ عَلَی الْفَرَسِ الْمَجْنُوبِ فَأَخَذَ السَّبَقَ۔ [ضعیف]
(١٩٧٨٠) ابن بکیر فرماتے ہیں کہ امام مالک (رح) سے اس کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا : جلب یہ ہے کہ دوڑ میں گھوڑے کو پیچھے رکھنا تاکہ وہ دوسرے کو آگے بڑھنے کے لیے حرکت دے اور جنب یہ ہے کہ دوسرے کے ساتھ ایک گھوڑا رکھنا بوقت ضرورت اس پر سوار ہو کر دوڑ جاری رکھی جاسکے۔