(۱۹۷۹۸) قَالَ وَقَالَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ یَعْنِی دِینَ اللَّہِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَقَتَادَۃَ مِثْلُ قَوْلِ إِبْرَاہِیمَ وَعَنْ بَشِیرٍ قَالَ : أَمَرَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أُخْصِیَ بَغْلاً لَہُ فِی خِلاَفَتِہِ۔ وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْخِصَائِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِہِ وَعَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ أَخْصَی بَغْلاً لَہُ۔ وَعَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِإِخْصَائِ الْخَیْلِ لَوْ تُرِکَتِ الْفُحُولُ لأَکَلَ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ وَعَنْ عَطَائٍ مَا خِیفَ عَضَاضُہُ وَسُوئُ خُلُقِہِ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔
(ق) وَمُتَابَعَۃُ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَا فِیہِ مِنَ السُّنَّۃِ الْمَرْوِیَّۃِ أَوْلَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ وَیُحْتَمَلُ جَوَازُ ذَلِکَ إِذَا اتَّصَلَ بِہِ غَرَضٌ صَحِیحٌ کَمَا حَکَیْنَا عَنِ التَّابِعِینَ وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الضَّحَایَا تَضْحِیَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِکَبْشَیْنِ مَوْجُوئَیْنِ وَذَلِکَ لِمَا فِیہِ مِنْ تَطْیِیبِ اللَّحْمِ۔ [صحیح]
(١٩٧٩٨) ابراہیم فرماتے ہیں کہ اللہ کے دین میں۔
(ب) بسیر فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے حکم دیا کہ میں خچر کو خصی کر دوں۔ حضرت حسن سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر نے اپنی خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں : گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیی جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء فرماتے ہیں : جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو خصی مینڈھے قربان کیے اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔