(۱۹۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تُسَمَّی الْعَضْبَائَ وَکَانَتْ لاَ تُسْبَقُ فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ عَلَی قَعُودٍ لَہُ فَسَبَقَہَا فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا رَأَی مَا فِی وُجُوہِہِمْ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ سُبِقَتِ الْعَضْبَائُ فَقَالَ : إِنَّ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ لاَ یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ وَضَعَہُ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِہِ الْقَصْوَائِ إِلَی الصَّخَرَاتِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۷۱۔ ۲۸۷۲۔ ۶۵۰۱]
(١٩٧٩٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کا نام عضباء تھا اور یہ کبھی ہاری نہ تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی کا اونٹ اس سے جیت گیا تو مسلمانوں کو ناگوار گزرا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہروں پر ناراضگی کے اثرات دیکھے اور انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! عضباء ہار گئی ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا قانون ہے کہ جس کو دنیا میں عروج ملتا ہے ایک دن اس پر زوال بھی آتا ہے۔
(ب) جابر بن عبداللہ (رض) حجۃ الوداع کے قصہ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے تو آپ کی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں سے مس کررہا تھا۔