(۱۹۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ فَذَکَرَ قِصَّۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَرُؤُیَاہُ إِلَی أَنْ قَالَ: ثُمَّ زَادَ بِلاَلٌ فِی التَّأْذِینِ: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، وَذَلِکَ أَنَّ بِلاَلاً أَتَی بَعْدَ مَا أَذَّنَ التَّأْذِینَۃَ الأُولَی مِنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ لِیُؤْذِنَ النَّبِیَّ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ فَقِیلَ لَہُ: إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَائِمٌ۔ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ بِأَعْلَی صَوْتِہِ: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ فَأُقِرَّتْ فِی التَّأْذِینِ لِصَلاَۃِ الْفَجْرِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۷۱۶]
(١٩٨٣) سعید بن مسیب نے عبداللہ بن زید (رض) کے خواب کا قصہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا : پھر بلال (رض) نے اذان میں یہ الفاظ زائد کیے : الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ اور بلال (رض) فجر کی نماز کی اذان دینے کے بعد آئے تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی اطلاع دیں ان سے کہا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے ہیں۔ بلال (رض) نے اونچی آواز سے کہا : الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ پھر یہصبح کی اذان میں مقرر کی دی گئی۔