(۱۹۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ کَاذِبًا یَقْطَعُ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ۔ أَوْ قَالَ : مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ۔ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذَلِکَ فِی الْقُرْآنِ {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً} [عمران ۷۷] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
قَالَ : فَمَرَّ الأَشْعَثُ فَقَالَ فِیَّ نَزَلَتْ وَفِی رَجُلٍ اخْتَصَمْنَا فِی بِئْرٍ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٩١٠) عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال کھایا یا فرمایا : اپنے بھائی کا مال ہڑپ کیا تو جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اس پر ناراض ہوگا۔ اس کی تصدیق اللہ نے قرآن میں نازل کردی۔ {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } [عمران ٧٧] ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت میں فروخت کردیتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ اشعث گزرے تو کہنے لگے : یہ میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ایک آدمی سے ہم نے کنویں کے بارے میں جھگڑا کیا۔