(۱۹۹۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِی الرُّطَیْلُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ فَاسْتَثْنَی فَقَالَ إِنْ شَائَ اللَّہُ ثُمَّ وَصَلَ الْکَلاَمَ بِالاِسْتِثْنَائِ ثُمَّ فَعَلَ الَّذِی حَلَفَ عَلَیْہِ لَمْ یَحْنَثْ۔ ہَذَا مَوْقُوفٌ۔[صحیح۔ تقدم موقوفاً ۱۹۹۲۰]
(١٩٩٢٤) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی قسم اٹھائے اور استثناء کرلے۔ اس نے ان شاء اللہ کہہ دیا پھر کلام کو استثناء کے ساتھ ملا دیا، پھر وہ کام کرلیا جس پر قسم کھائی تھی تو وہ حانث نہ ہوگا۔