(۱۹۹۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ : عِیسَی بْنُ أَبِی عِمْرَانَ الْبَزَّارُ بِالرَّمْلَۃِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ۔ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ۔ قَالَ : فَأَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ۔ قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ۔ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ۔ قَالَ : فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْحَجِّ وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَجَعَلَ تَقْدِیرَ الْعَرَقِ فِی رِوَایَۃِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ۔
وَرُوِیَ مِنْ حَدِیثِ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصِّیَامِ۔ [صحیح]
(١٩٩٦٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اوپر افسوس ! کیا ہوا ؟ کہنے لگا : رمضان میں میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گردن آزاد کر۔ کہنے لگا : میرے پاس نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ۔ کہنے لگا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ کہنے لگا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جاؤ اور صدقہ کرو۔ کہنے لگا : اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں پر ؟ اور کہنے لگا : میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ان دو پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے حتی کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے : لے جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔