(۱۹۹۶۹) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَتَی أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمُصِیبِ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ قَالَ عَطَاء ٌ فَسَأَلْتُ سَعِیدًا کَمْ فِی ذَلِکَ الْعَرَقِ قَالَ مَا بَیْنَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا إِلَی عِشْرِینَ۔
فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أَکْثَرُ مَا قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ مُدٌّ وَرُبُعٌ أَوْ مُدٌّ وَثُلُثٌ وَإِنَّمَا ہَذَا شَکٌّ أَدْخَلَہُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَالْعَرَقُ کَمَا وَصَفْتُ کَانَ یُقَدَّرُ عَلَی خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔
قَالَ الشَّیْخُ حَدِیثُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ مُنْقَطِعٌ۔ وَعَطَاء ٌ الْخُرَاسَانِیُّ غَیْرُہُ أَوْثَقُ مِنْہُ۔ [صحیح]
(١٩٩٦٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ انھوں نے رمضان کے مہینہ میں اپنی بیوی کے پاس جانے والے کا تذکرہ کیا۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا : ٹوکرے میں کتنی مقدار تھی ؟ فرماتے ہیں : پندرہ سے بیس صاع تک موجود تھے۔