(۱۹۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّہُ لاَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ۔ فَقُلْتُ یَا أَبَا نُجَیْدٍ إِنَّ صَاحِبَنَا لَیْسَ بِالْمُوسِرِ فَبِمَ یُکَفِّرُ قَالَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَی أَمِیرٍ مِنَ الأُمَرَائِ وَکَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ قَلَنْسُوۃً لَقَالَ النَّاسُ قَدْ کَسَاہُمْ۔
وَیُذْکَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ۔ [ضعیف]
(١٩٩٨٣) ابن زبیرحنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمران بن حصین سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ حضرت عمران بن حصین نے فرمایا : میں نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ میں نے کہا کہ وہ ساتھی کوئی تنگ دست نہیں ہے پھر وہ کیا کفارہ ادا کرے ؟ فرمایا : اگر وہ امراء میں سے ہے تو ہر انسان کو ٹوپی بھی پہنائے تو لوگوں نے کہا : انھوں نے ان کو ٹوپی بھی پہنائی اور سلمان سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جان گیا ہے۔