(۱۹۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیرٍ أَنْبَأَنَا خُصَیْفٌ عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ قَالُوا : لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبٌ قَمِیصٌ أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاء ٌ فَقُلْتُ لِخُصَیْفٍ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ مُوسِرًا قَالَ أَیَّ ذَا فَعَلَ فَحَسُنَ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَذِہِ الْخِصَالَ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَذَکَرَ أَنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیٍّ مُتَتَابِعَۃٍ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ مُدٌّ مُدٌّ وَالْکِسْوَۃُ ثَوْبٌ ثَوْبٌ۔ [ضعیف]
(١٩٩٨٢) عطاء مجاہد اور عکرمہ نے فرمایا : ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف سے کہا : اگر وہ تنگ دست ہو تو پھر ؟ فرمایا : جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج کی روایت جو عطاء سے ہے کہ یہ کفارہ قسم میں ہے ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔