(۲۰۰۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِیلِ أَخْبَرَنِی عِکْرِمَۃُ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أَصْنَعَ حِینًا کَذَا وَکَذَا فَمَا الْحِینُ الَّذِی لاَ یُدْرَکُ قَالَ فَقَرَأَ {ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَانِ حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ} [الإنسان ۱] مَا یَدْرِی کَمْ أَتَی مُنْذُ خَلَقَہُ اللَّہُ وَأَمَّا الْحِینُ الَّذِی یُدْرَکُ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ} [إبراہیم ۲۵] مَا بَیْنَ صِرَامِ النَّخْلِ إِلَی ثَمَرِہَا۔ [صحیح]
(٢٠٠٢٠) عکرمہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے روانہ کیا کہ ایک وقت تک میں یہ نہ کروں گا تو ” حین “ سے مراد کیا ہے جس کو وہ پا نہ سکیں ؟ تو انھوں نے پڑھا :{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ } [الإنسان ١] ” کوئی نہیں جانتا کتنی مدت گزر گئی، جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن وہ لفظ حین جو اللہ کے اس فرمان میں موجود ہے “ { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ } [إبراہیم ٢٥] اس سے مراد پھل آنے سے لے کر پھل توڑنے کی مدت درمیانی حصہ ہے۔