(۲۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی عَرُوبَۃَ: أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَکُونَ الْمُؤَذِّنُ أَعْمَی۔
وَہَذَا وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِی ذَلِکَ مَحْمُولٌ عَلَی أَعْمَی مُنْفَرِدٍ لاَ یَکُونُ مَعَہُ بَصِیرٌ یُعْلِمُہُ الْوَقْتَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن شیبۃ ۲۲۵۴]
(٢٠٠٥) (الف) ابی عروبہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر (رض) نابیناکو مؤذن بنانا پسند نہیں کرتے تھے۔ (ب) یہ روایت اور ابن مسعود (رض) والی روایت اس صورت پر محمول ہے جب مؤذن اکیلا ہو اور کوئی بینا شخص اسے اذان کا وقت بتلانے والا نہ ہو۔