(۲۰۰۹۴) وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَفِیہِ الأَمْرُ بِالْکَفَّارَۃِ وَمُحَمَّدُ بْنُ کُرَیْبٍ ضَعِیفٌ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ السَّبِیئُ الشَّہِیدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَائٍ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ أَبُو إِسْرَائِیلَ بْنُ قُشَیْرٍ : إِنَّہُ کَانَ نَذَرَ أَنْ یَصُومَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَتَکَلَّمَ فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اقْعُدْ وَاسْتَظِلَّ وَتَکَلَّمْ وَکَفِّرْ ۔
کَذَا وَجَدْتُہُ وَکَفِّرْ وَعِنْدِی أَنَّ ذَلِکَ تَصْحِیفٌ إِنَّمَا ہُوَ : وَصُمْ ۔ کَمَا ہُوَ فِی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[ضعیف]
(٢٠٠٩٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابواسرائیل نے نذر مانی کہ وہ روزہ رکھے گا، نہیں بیٹھے گا ، سایہ حاصل نہیں کرے گا اور کلام بھی نہ کرے گا۔ اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ، سایہ حاصل کر، کلام کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ اس طرح میں نے پایا ہے کہ قسم کا کفارہ دے اور میرے نزدیک یہ تصحیف ہے کہ تو روزہ رکھ جیسے تمام روایات میں ہے۔