(۲۰۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَرَّقَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ عَنْ أَبِیہِ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی لَیْلَی امْرَأَۃُ بَشِیرِ ابْنِ الْخَصَاصِیَّۃِ وَکَانَ اسْمُہُ قَبْلَ ذَلِکَ زَحْمٌ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَشِیرًا قَالَتْ حَدَّثَنِی بَشِیرٌ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَأَنْ لاَ یُکَلِّمَ ذَلِکَ الْیَوْمَ أَحَدًا قَالَ فَقَالَ لَہُ : لاَ تَصُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلاَّ فِی أَیَّامٍ کُنْتَ تَصُومَہَا أَوْ فِی شَہْرٍ وَأَنْ لاَ تُکَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِی لأَنْ تُکَلِّمَ فَتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَنْہَی عَنْ مُنْکَرٍ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَسْکُتَ ۔ [صحیح۔ مسند احمد ۲۱۴۴۷]
(٢٠٠٩٥) بشیر بن خصاصیۃ کی بیوی لیلی فرماتی ہیں کہ ان کا پہلے نام زحم تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام بشیر رکھا۔ بیان کرتی ہیں کہ بشیر نے مجھے بیان کیا کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جمعہ کے روزہ کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ اس دن وہ کسی سے کلام بھی نہ کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان ایام کے روزے رکھ، جن کے تو رکھتا ہے یا مہینے میں۔ میری عمر کی قسم کسی سے کلام نہ کرو، لیکن اچھائی کا حکم دینا برائی سے منع کرنا یہ خاموشی سے بہتر ہے۔