(۲۰۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْقَاسِمِ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ مِنْ أَصْلِہِ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا بَیَانُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ قَالَ فَرَآہَا لاَ تَکَلَّمُ قَالَ مَا لِہَذِہِ لاَ تَکَلَّمُ قَالَ فَقَالُوا حَجَّتْ مُصْمِتَۃً فَقَالَ تَکَلَّمِی فَإِنَّ ہَذَا لاَ یَحِلُّ ہَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَتَکَلَّمَتْ فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ قَالَتْ مِنْ أَیِّ الْمُہَاجِرِینَ قَالَ مِنْ قُرَیْشٍ قَالَتْ مِنْ أَیِّ قُرَیْشٍ قَالَ إِنَّکِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَی ہَذَا الأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِی جَائَ اللَّہُ بِہِ بَعْدَ الْجَاہِلِیَّۃِ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ بَقَاؤُکُمْ عَلَیْہِ مَا اسْتَقَامَتْ أَئِمَّتُکُمْ قَالَتْ وَمَا الأَئِمَّۃُ قَالَ أَمَا کَانَ لِقَوْمِکِ رُئُ وسٌ وَأَشْرَافٌ یَأْمُرُونَہُمْ وَیُطِیعُونَہُمْ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَہُمْ أَمْثَالُ أُولَئِکَ یَکُونُونَ عَلَی النَّاسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۳۴]
(٢٠٠٩٦) حضرت قیس بن ابی حازم سے منقول کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس آئے۔ اس کا نام زینب تھا۔ انھوں نے دیکھا وہ کلام نہیں کرتی۔ پوچھا : تو کلام کیوں نہیں کرتی ؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اس نے حج خاموشی سے کیا ہے، ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : کلام کر ! یہ جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کا کام ہے۔ کہنے لگی : آپ کون ہیں ؟ ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے : میں مہاجرین میں سے ہوں۔ کہنے لگی : کون سے مہاجرین ؟ آپ (رض) نے فرمایا : قریشی۔ کہنے لگی : کون سے قریش ؟ فرمایا : میں ابوبکر ہوں۔ کہنے لگی : جاہلیت کے کون سے نیک اعمال ہیں جن پر اللہ نے ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد باقی رکھا ہے۔ فرمایا : جن پر تمہارے ائمہ کو باقی رکھا ہے۔ کہنے لگی : ائمہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : کیا تمہاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں جو انھیں نیکی کا حکم دیں اور اطاعت کے لیے ابھاریں ؟ کہنے لگی : کیوں نہیں۔ فرمایا : اسیطرح لوگوں کے بھی ہوتے ہیں۔