(۲۰۱۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَدِمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِیہِ فَأَتَتْہُ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّکَ اللَّہُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَیْنَ یَدَیْکَ بِالدُّفِّ فَقَالَ : إِنْ کُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِی ۔ قَالَ فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہِیَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَہَا وَقَعَدَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَخَافُ مِنْکَ یَا عُمَرُ ۔ [حسن]
(٢٠١٠١) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ سے واپس آئے۔ تو ان کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی آئی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں نے نذر مانی تھی۔ اگر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صحیح واپس کردیا تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دف بجاؤں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نذر مانی ہے تو پوری کر۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ دف بجانے لگی۔ ابوبکر صدیق (رض) آئے۔ یہ دف بجاتی رہی تھی۔ پھر حضرت عمر (رض) آئے تو اس نے دف نیچے رکھ کر اس کے اوپر بیٹھ گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! شیطان تجھ سے خوف کھاتا ہے۔