(۲۰۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ أَبُو قُدَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَی رَأْسِکَ بِالدُّفِّ فَقَالَ : أَوْفِی بِنَذْرِکِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ -ﷺ- إِنَّمَا أَذِنَ لَہَا فِی الضَّرْبِ لأَنَّہُ أَمَرٌ مُبَاحٌ وَفِیہِ إِظْہَارُ الْفَرَحِ بِظُہُورِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَرُجُوعِہِ سَالِمًا لاَ أَنَّہُ یَجِبُ بِالنَّذْرِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن لغیرہ]
(٢٠١٠٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دف بجانے کی نذر مانی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی نذر کو پورا کر۔