(۲۰۱۰۵) وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّی الْقِبْلَۃَ أَبَعْدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ وَکَانَ یَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقِیلَ لَہُ لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا فَرَکِبْتَہُ فِی الرَّمْضَائِ وَالظَّلْمَائِ فَقَالَ وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِی یَلْزَقُ الْمَسْجِدَ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ- بِذَلِکَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْمَا یُکْتُبَ أَثَرِی وَخُطَایَ وَرُجُوعِی إِلَی أَہْلِی وَإِقْبَالِی وَإِدْبَارِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْطَاکَ اللَّہُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۶۳]
(٢٠١٠٥) حضرت ابن بن کعب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد سے دور ہونے کے باوجود نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ اس کو کہا گیا کہ گرمی اور اندھیرے میں سواری کے لیے گدھا خرید لو۔ اس نے کہا : اللہ کے قسم ! میں پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے پاس ہو۔ اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی گئی۔ اس سے سوال ہوا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میرے نشانات قدم اور میرا اپنے گھر اور قبیلے کی طرف لوٹنا اور آنا، ان کا ثواب لکھا جاتا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی تو نے نیت کی ہے اس کا اجر تجھے ملے گا۔