(۲۰۱۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِیِّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا بُرَیْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِی الصَّلاَۃِ أَبْعَدُہُمْ إِلَیْہَا مَشْیًا وَالَّذِی یَنْتَظِرُ الصَّلاَۃَ حَتَّی یُصَلِّیَہَا مَعَ الإِمَامِ فِی جَمَاعَۃٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِمَّنْ یُصَلِّیہَا ثُمَّ یَنَامُ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠١٠٦) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ اجر اس انسان کو ملتا ہے جو دور سے پیدل چل کر مسجد میں آتا ہے اور وہ بندہ جو باجماعت نماز کا انتظار کر کے نماز پڑھتا ہے، اس سے زیادہ اجر کا مستحق ہے جو اکیلا نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔