(۲۰۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَہْرُوَیْہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ شَیْخٌ کَبِیرٌ یُہَادَی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَقَالَ -ﷺ- : مَا بَالُ ہَذَا ؟ ۔ قَالُوا : نَذَرَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْ یَمْشِیَ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِیبِ ہَذَا نَفْسَہُ لَغَنِیٌّ ۔ وَأَمَرَہُ أَنْ یَرْکَبَ فَرَکِبَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠١٠٩) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھا آدمی گزرا جس کو اس کے دونوں بیٹے سہارا دیی ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کیا ہے ؟ جواب ملا : اس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اس کو عذاب دینے سے غنی ہے، وہ سوار ہوجائے پھر وہ سوار ہوگیا۔