(۲۰۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ ہُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیہَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أَبَیْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِیقَ حَقَّہُ ۔ قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِیقِ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الأَذَی وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی عَامِرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٠٥) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ کہنے لگے : ہماری مجالس ضرورہوتی ہیں۔ آپ نے فرمایا : اگر تم نے ضرور بیٹھنا ہے تو راستے کو اس کا حق دو ۔ انھوں نے کہا : راستے کا کیا حق ہے ؟ فرمایا : نظر کو نیچا رکھنا، تکلیف کو روکنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔