(۲۰۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: وَاللَّہِ لاَ أَقُولُ لِرَجُلٍ إِنَّکَ خَیْرُ النَّاسِ وَإِنْ کَانَ عَلَیَّ أَمِیرًا بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ قَالُوا وَمَا سَمِعْتَہُ یَقُولُ قَالَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یُجَائُ بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقَی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہُ فَیَدُورُ بِہَا فِی النَّارِ کَمَا یَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیُطِیفُ بِہِ أَہْلُ النَّارِ فَیَقُولُونَ یَا فُلاَنُ مَا لَکَ مَا أَصَابَکَ أَلَمْ تَکُنْ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ فَیَقُولُ کُنْتُ آمُرُکُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ آتِیہِ وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیہِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٠٩) اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں کسی کے لیے یہ نہ کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرے اوپر امیر کیوں نہ ہو۔ جب سے میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ ساتھیوں نے کہا : آپ نے کیا سنا ہے ؟ فرمایا : میں نے سنا، آپ فرما رہے تھے : قیامت کے دن آدمی کو لایا جائے گا، جہنم میں پھینک دیا جائے گا ، اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی، وہ اس کے گرد جہنم چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے، جہنمی لوگ جمع ہوجائیں گے، کہیں گے : اے فلاں ! تجھے کیا ہوا حالانکہ تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہ کرتا، برائی سے منع کرتا لیکن خود کرتا۔