(۲۰۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِیُّ أَنَّ جَدَّہُ عُمَیْرَ بْنَ حَبِیبٍ وَکَانَ قَدْ بَایَعَ النَّبِیَّ -ﷺ- أَوْصَی بَنِیہِ قَالَ لَہُمْ : أَیْ بَنِیَّ إِیَّاکُمْ وَمُخَالَطَۃَ السُّفَہَائِ فَإِنَّ مُجَالَسَتَہُمْ دَاء ٌ وَإِنَّہُ مَنْ یَحْلُمْ عَنِ السَّفِیہِ یُسَرَّ بِحِلْمِہِ وَمَنْ یُجِبْہُ یَنْدَمْ وَمَنْ لاَ یَقَرَّ بِقَلِیلِ مَا یَأْتِی بِہِ السَّفِیہُ یَقَرَّ بِالْکَثِیرِ وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُنْکَرِ فَلْیُوَطِّنْ نَفْسَہُ قَبْلَ ذَلِکَ عَلَی الأَذَی وَلْیُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّہِ فَإِنَّہُ مَنْ یُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّہِ لاَ یَجِدْ مَسَّ الأَذَی۔ [صحیح]
(٢٠٢١٠) ابوجعفرخطمی کے دادا عمیر بن حبیب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی : اے میرے بیٹو ! بیوقوف لوگوں کی مجالس سے بچنا ؛کیونکہ ان کی مجلس بیماری ہے۔ جو بیوقوف سے درگزر کرتا ہے وہ اپنی درگزر کی وجہ سے خوش کردیا جاتا ہے اور جو اس کو جواب دیتا ہے وہ نادم ہوتا ہے اور جو انسان تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا جو اس کے پاس بیوقوف لے کر آئے، وہ کثیر پر راضی ہوجائے گا۔ جب تم میں سے کسی کا ارادہ ہو کہ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرے تو وہ اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رکھے۔ اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے جو اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ تکلیف کو محسوس نہیں کرتا۔