(۲۰۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رُبَّمَا ذَکَرَ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَا مِنْ حَکَمٍ یَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ إِلاَّ وُکِّلَ بِہِ مَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَلَی شَفِیرِ جَہَنَّمَ فَیَرْفَعَ رَأْسَہُ إِلَی اللَّہِ فَإِنْ أَمَرَہُ أَنْ یَقْذِفَہُ قَذَفَہُ فِی مَہْوًی أَرْبَعِینَ خَرِیفًا ۔ [ضعیف]
(٢٠٢٢٣) مسروق حضرت عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں، کبھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جو اس کی گدی سے پکڑے رکھتا ہے اور جہنم کے کنارے کھڑا رکھتا ہے اور اپنا سر اللہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ اگر اللہ حکم دیں تو جہنم کی چالیس سالہ گہرائی میں پھینک دیتا ہے۔