(۲۰۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَنْبَأَنَا عُقْبَۃُ یَعْنِی ابْنَ عَلْقَمَۃَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی سِمَاکٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ أَبْشِرْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَدْ مَصَّرَ بِکَ الأَمْصَارَ وَدَفَعَ بِکَ النِّفَاقَ وَأَفْشَی بِکَ الرِّزْقَ فَقَالَ عُمَرُ أَفِی الإِمَارَۃِ تُثْنِی عَلَیَّ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَفِی غَیْرِہَا۔ قَالَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی خَرَجْتُ مِنْہَا کَمَا دَخَلْتُ فِیہَا لاَ أَجْرَ وَلاَ وِزْرَ۔ [حسن لغیرہ]
(٢٠٢٢٨) سماک فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : جب عمر بن خطاب (رض) زخمی کیے گئے۔ میں ان کے پاس گیا۔ میں نے کہا : امیرالمومنین ! خوش ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے شہر تعمیر یا آباد کروائے۔ نفاق کو دور کیا اور رزق کو عام کیا تو حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : اے ابن عباس (رض) ! کیا میری امارت کی تعریف کرنا چاہتے ہو۔ فرمایا : ہاں اس کے علاوہ بھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میری یہ چاہت ہے جیسے میں داخل ہوا ۔ اس میں ویسے ہی نکل جاؤں۔ ثواب اور گناہ نہ ہو۔