(۲۰۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قِصَّۃِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ وَجَائَ النَّاسُ یُثْنُونَ عَلَیْہِ وَجَائَ رَجُلٌ شَابٌّ فَقَالَ أَبْشِرْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بِبُشْرَی اللَّہِ لَکَ مِنْ صُحْبَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدَمٍ فِی الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِیتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ الشَّہَادَۃُ قَالَ یَا ابْنَ أَخِی وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِکَ کَفَافٌ لاَ عَلَیَّ وَلاَ لِیَ فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُہُ یَمَسُّ الأَرْضَ فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ الْغُلاَمَ۔ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ارْفَعْ ثَوْبَکَ فَإِنَّہُ أَنْقَی لِثَوْبِکَ وَأَتْقَی لِرَبِّکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]
(٢٠٢٢٧) حضرت عمرو بن میمون حضرت عمر بن خطاب (رض) کے قتل کے قصہ کے بارے میں بیان کیا کہ ہم ان کے پاس آئے تو لوگ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ ایک نوجوان آدمی آیا۔ اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ کو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت سے نوازا اور اسلام کو قبول کیا جب جانا۔ پھر آپ نے امیر بن کر انصاف کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! یہ برابر ہی ہوجائے نہ ثواب نہ عذاب اتنا ہی کافی ہے۔ جب وہ واپس چلا تو اس کی چادر زمین کو چھو رہی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جوان کو واپس لاؤ۔ اے بھتیجے ! اپنا کپڑا اوپر اٹھاؤ۔ یہ آپ کے کپڑے کی صفائی کے زیادہ مناسب ہے اور آپ کے رب کی رضا بھی ہے۔