(۲۰۲۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ الْکِسَائِیُّ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عِیسَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَرُوضِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاجَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ یَقُولُ: لَمَّا وَلِیَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ الْقَضَائَ قِیلَ لِلْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ أَلاَ تَأْتِیہِ قَالَ وَاللَّہِ مَا نَالَ عِنْدِی غَنِیمَۃً فَأُہَنِّیَہُ عَلَیْہَا وَلاَ أُصِیبَ عِنْدَ نَفْسِہِ بِمُصِیبَۃٍ فَأُعَزِّیَہُ عَلَیْہَا وَمَا کُنْتُ زَوَّارًا لَہُ قَبْلَ الْیَوْمِ فَأَزُورَہُ الْیَوْمَ۔ [صحیح]
(٢٠٢٣٣) ابوجعفرطحاوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر محمد بن عباس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : جب محارب بن دثار قاضی بنے تو حکم بن عتیبہ سے کہا گیا : آپ میرے پاس کیوں نہیں آئے ؟ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک اس نے مال تو حاصل نہیں کیا کہ میں اس کو مبارک باد دوں اور نہ کوئی مصیبت آئی کہ میں اس پر تعزیت کروں۔ اس سے پہلے میں ان کی زیارت نہ کرتا کہ آج زیارت کے لیے جاؤں۔