(۲۰۲۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو نُعَیْمٍ : خَرَجَ شُرَیْحٌ مِنْ عِنْدِ زِیَادٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَقَالَ کَبِرَتْ سِنُّکَ وَرَقَّ عَظْمُکَ وَارْتَشَی ابْنُکَ قَالَ فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ مَنْ قَالَ لَکَ قَالَ لاَ أَعْرِفُہُ فَأَعْفِنِی قَالَ لاَ أَعْفِیکَ حَتَّی تُشِیرَ عَلَیَّ بِرَجُلٍ فَأَشَارَ عَلَیْہِ بِأَبِی بُرْدَۃَ فَوَلاَّہُ الْقَضَائَ ۔ [صحیح]
(٢٠٢٣٤) ابونعیم فرماتے ہیں کہ قاضی شریح زیاد کے پاس سے نکلے۔ ان کو ایک آدمی ملا۔ کہنے لگا : آپ کی عمر بڑھ گئی۔ ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بچے کمزور۔ وہ زیاد کے پاس گئے، ان کو خبر دی۔ اس نے کہا : آپ کو کس نے کہا ؟ کہنے لگا : میں اس کو پہچانتا نہیں لیکن اس نے مجھے راحت دی۔ زیاد کہتے ہیں : پہلے آدمی کی طرف اشارہ کرو، اس نے ابوبردہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے اس کو قاضی بنادیا۔