(۲۰۲۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ : دَخَلَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَجَعَلَ یَتَجَانَنُ عَلَیْہِمْ وَیَمْسَحُ الْبِسَاطَ وَیَقُولُ مَا أَحْسَنَہُ مَا أَحْسَنَہُ بِکَمْ أَخَذْتُمْ ہَذَا ثُمَّ قَالَ الْبَوْلَ الْبَوْلَ حَتَّی أُخْرِجَ یَعْنِی أَنَّہُ احْتَالَ لِیَتَبَاعَدَ مِنْہُمْ وَیَسْلَمَ مِنْ أَمْرِہِمْ۔ [صحیح]
(٢٠٢٣٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری امیرالمومنین کے پاس گئے۔ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر رہے تھے اور چٹائی کو چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے : یہ کتنی خوبصورت ہے، یہ کتنی خوبصورت ہے۔ تم نے یہ کتنے میں لی ہے ؟ پھر کہنے لگے : پیشاب، پیشاب۔ یہاں تک کہ نکل گئے۔ تاکہ ان کے معاملے سے دور رہیں اور محفوظ رہیں۔