hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20243

.

سنن البيهقي

20243
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أَحْمَدَ وَہُوَ الْحَافِظُ الْبُخَارِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی عَمْرٍو الطَّوَاوِیسِیُّ یَقُولُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْہَرِ بَلَغَنِی عَنْ أَبِی یُوسُفَ قَالَ لَمَّا مَاتَ سَوَّارٌ قَاضِی أَہْلِ الْبَصْرَۃِ دَعَا أَبُو جَعْفَرٍ یَعْنِی الْمَنْصُورَ أَبَا حَنِیفَۃَ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ سَوَّارًا قَدْ مَاتَ وَإِنَّہُ لاَ بُدَّ لِہَذَا الْمِصْرِ یَعْنِی مِنْ قَاضٍ فَاقْبَلِ الْقَضَائَ فَقَدْ وَلَّیْتُکَ قَضَائَ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنِّی لاَ أُصْلِحُ لِلْقَضَائِ وَوَاللَّہِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَئِنْ کُنْتُ صَادِقًا فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَسْتَقْضِیَ رَجُلاً لاَ یُصْلِحُ لِلْقَضَائِ وَلَئِنْ کُنْتُ کَاذِبًا فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَسْتَقْضِیَ رَجُلاً کَذَّابًا وَإِنَّہُ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وَقَدْ أَصْبَحْتُ مُخَالِفًا لَکَ قَالَ فَقَالَ لَہُ أَبُو جَعْفَرٍ : صَدَقْتَ إِنَّکَ قُلْتَ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ مِثْلَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ فَتِلْکَ {أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ} [البقرۃ ۱۳۴]الآیَۃَ وَأَمَّا قَوْلُکَ إِنَّہُ لاَ یَصْلُحُ لِہَذَا الأَمْرِ إِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فَإِنْ نَأْخُذُ بِمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِہِ {إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ} [الحجرات ۱۳] وَلَیْسَ عَلَیْنَا إِلاَّ الْجُہْدُ فِی أَہْلِ زَمَانِنَا وَأَمَّا قَوْلُکَ إِنَّکَ أَصْبَحْتَ مُخَالِفًا لِی فَإِنَّ الرَّأْیَ یُخَالِفُ الرَّأْیَ فَاقْبَلْ ہَذَا الأَمْرَ فَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَئِنْ خَلَّیْتَ عَنِّی وَإِلاَّ لَبَّیْتُ مَکَانِی السَّاعَۃَ فَمَا یَسَعُکَ أَنْ تَحْبِسَ مُلَبِّیًا قَالَ فَخَلَّی عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
(٢٠٢٣٧) ابویوسف فرماتے ہیں : بصرہ کے قاضی سوار فوت ہوگئے تو ابوجعفر منصور نے ابوحنیفہ (رح) کو بلایا اور کہا : بصرہ کے قاضی سوار فوت ہوگئے، اس شہر کے لیے قاضی کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو عہدہ قضاء سونپ دیتا ہوں قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ (رح) کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں عہدہ قضاء کے لائق نہیں ہوں، اے امیرالمومنین ! اگر میں سچ بولتا ہوں تو پھر ایسے آدمی کو قضاء کا عہدہ دینا مناسب نہیں جو اس کا لائق نہیں ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو کذاب آدمی کو عہدہ قضانہ دیں۔ کسی عرب کے آدمی کے لیے یہ عہدہ مناسب ہے۔ میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ منصور نے کہا : تو نے سچ کہا کہ اس عہدہ کے مناسب ابوبکر، عمر (رض) کی طرح کے لوگ تھے۔ { أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ } [البقرۃ ١٣٤]” یہ امت تھی جو گزر گئی ان کے لیے ہے جو انھوں نے کمایا۔ “ آپ کا یہ کہنا کہ عرب کے لوگ اس کے لائق ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ } [الحجرات ١٣] ” اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ “ اپنے زمانہ میں کوشش کرنا ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ تو نے میری مخالفت مول لی رائے تو ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتی ہے، اس امر کو قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اے امیرالمومنین ! میرا راستہ چھوڑ دیں، وگرنہ میں اپنی اس جگہ سے قیامت تک تلبیہ کہنا شروع کردوں گا۔ پھر آپ تلبیہ کہنے والے کو روک سکیں گے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے راستہ چھوڑ دیا۔