(۲۰۲۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ یَقُولُ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِیدٍ الرِّبَاطِیَّ یَقُولُ قَدِمْتُ عَلَی أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَجَعَلَ لاَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَیَّ فَقُلْتُ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ إِنَّہُ یُکْتَبُ عَنِّی بِخُرَاسَانَ وَإِنْ عَامَلْتَنِی بِہَذِہِ الْمُعَامَلَۃِ رَمَوُا بِحَدِیثِی فَقَالَ لِی یَا أَحْمَدُ ہَلْ بُدٌّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أَنْ یُقَالَ أَیْنَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ طَاہِرٍ وَأَتْبَاعُہُ انْظُرْ أَیْنَ تَکُونُ أَنْتَ مِنْہُ قَالَ قُلْتُ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ إِنَّمَا وَلاَّنِی أَمْرَ الرِّبَاطِ لِذَاکَ دَخَلْتُ فِیہِ قَالَ فَجَعَلَ یُکَرِّرُ عَلَیَّ یَا أَحْمَدُ ہَلْ بُدٌّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یُقَالَ أَیْنَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ طَاہِرٍ وَأَتْبَاعُہُ انْظُرْ أَیْنَ تَکُونُ أَنْتَ مِنْہُ۔ [صحیح]
(٢٠٢٤٤) احمد بن سعید رباطی فرماتے ہیں کہ میں احمد بن حنبل کے پاس آیا۔ وہ میری طرف سر بھی نہ اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! خراسان میں مجھ سے لکھا گیا۔ اگر آپ نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تو انھوں نے میری احادیث کو چھوڑ دیا، اس نے مجھ سے کہا : اے احمد ! کیا یہ ضروری ہے کہ قیامت کے دن کہا جائے کہ عبداللہ بن طاہر اور اس کے شاگرد کہاں ہیں ؟ دیکھ تو ان میں سے کہاں ہے ؟ میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! انھوں نے مجھے رباط کے معاملات کا والی بنادیا ہے۔ پھر میں ان میں داخل ہوگیا۔ راوی فرماتی ہیں کہ وہ بار بار میرے اوپر یہی بات دہرا رہے تھے کہ اے احمد ! قیامت کے دن یہ ضروری ہے کہ پوچھا جائے کہ عبداللہ بن طاہر کے شاگرد کہاـں ہیں ؟ دیکھ لو آپ ان میں سے کہاں ہوں گے !